مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: مشرق وسطی میں بڑھتی کشیدگی، اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں اور بڑی طاقتوں پر سلامتی کے لیے انحصار سے متعلق خدشات نے علاقائی تعاون کی ضرورت کو مزید اہم بنادیا ہے۔ ایسے میں تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ اجلاس خطے کے ممالک کے درمیان سلامتی اور سیاسی تعاون کے نئے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ مختلف سیاسی ترجیحات رکھنے والے چار ممالک مشترکہ مفادات کی بنیاد پر علاقائی مسائل پر مشاورت اور تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ کے معاون برائے بین الاقوامی امور علی باقری کنی نے کہا ہے کہ اس اجلاس کا انعقاد ایرانی قوم کی مزاحمت اور مسلح افواج کی بہادری کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں رونما ہونے والی اہم تزویراتی تبدیلیوں اور امریکہ و اسرائیل کی جارحیت نے اس نوعیت کے علاقائی تعاون کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔
دفاعی خود انحصاری؛ طاقت کے توازن کا نیا پہلو
ایران کے نقطۂ نظر سے حالیہ علاقائی صورت حال نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ علی باقری کنی کے مطابق، ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت، نیز رہبر انقلاب کی حکمت عملی نے امریکہ کو اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام بنایا، جبکہ اسرائیلی حکومت بھی ایران کے خلاف جارحیت کے بعد اپنے منصوبوں کے مطابق نتائج حاصل نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی قومی اور داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے دو مختلف مراحل میں دو حکومتوں کی کھلی جارحیت کا مقابلہ کیا اور دونوں مواقع پر کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق، ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں ہونے والی ترقی ملکی نوجوان سائنس دانوں، صنعت کاروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر کئی دہائیوں سے عائد پابندیوں، بالخصوص فوجی شعبے میں جدید سازوسامان اور سہولیات تک رسائی محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود، ایران نے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے داخلی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے۔ ایرانی حکام اس پیش رفت کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ پابندیوں کے باوجود سائنسی، تکنیکی اور صنعتی ترقی کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
تجزیاتی اعتبار سے دفاعی خود انحصاری کا تصور صرف ہتھیاروں کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق قومی خود مختاری، بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں فیصلہ سازی کی آزادی سے بھی ہے۔ ایران کے لیے یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو بیرونی طاقتوں کے وعدوں کے بجائے داخلی صلاحیتوں سے وابستہ کرتا ہے۔
اسی تناظر میں علاقائی ممالک کے لیے بھی یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ آیا کسی بڑی عالمی طاقت کے ساتھ دفاعی اور سیاسی وابستگی انہیں ہر قسم کے خطرے سے محفوظ بنا سکتی ہے۔ باقری کنی کے مطابق، بعض ممالک یہ تصور رکھتے تھے کہ امریکہ جیسی طاقت کے ساتھ تعلقات انہیں مکمل تحفظ فراہم کرسکتے ہیں، لیکن عملی تجربے نے اس تصور کی کمزوری ظاہر کردی ہے۔
اس مؤقف کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ علاقائی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کے ساتھ ساتھ مقامی دفاعی صلاحیتوں اور علاقائی تعاون کو بھی بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ تاہم، اس تصور کو مؤثر بنانے کے لیے ممالک کو اپنی دفاعی ضروریات، قومی مفادات اور باہمی تعلقات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
اسرائیلی خطرہ؛ علاقائی اتحاد کی مشترکہ بنیاد
ایران کے مطابق، خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کی ایک بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں ہیں۔ باقری کنی نے نام نہاد ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات خطے کے متعدد ممالک تک پھیلتے ہیں۔ ان کے مطابق، اسرائیلی حکومت کی جانب سے عدم تحفظ، بحران اور کشیدگی پیدا کرنے کے عمل نے علاقائی ممالک کو مشترکہ سلامتی کے لیے ایک مشترکہ بنیاد فراہم کی ہے۔
یہ مؤقف تہران کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت مشترکہ خطرات کی نشاندہی کو علاقائی تعاون کی بنیاد بنایا جارہا ہے۔ اس سوچ کے مطابق، اگر خطے کے ممالک کسی بڑے خطرے کے بارے میں مشترکہ تشخیص رکھتے ہوں تو ان کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود تعاون کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم، علاقائی اتحاد کی تشکیل کے لیے مشترکہ خطرات کا ادراک ضروری ہونے کے باوجود کافی نہیں۔ ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسیوں، علاقائی ترجیحات اور بین الاقوامی تعلقات میں فرق موجود ہے۔ ان اختلافات کے باوجود تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر اتفاق رائے ضروری ہوگا۔
اس اجلاس کی اہمیت بھی اسی پہلو سے سامنے آتی ہے کہ چاروں ممالک نے علاقائی سلامتی کے معاملات پر براہِ راست مشاورت کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے۔ اگر یہ رابطے مستقل بنیادوں پر جاری رہتے ہیں تو مختلف سیاسی ترجیحات رکھنے والے ممالک کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، اگر مشترکہ خطرات کے حوالے سے اتفاق عملی پالیسیوں میں تبدیل نہ ہوسکا تو علاقائی تعاون کی کوششیں محدود رہ سکتی ہیں۔ اس لیے اصل چیلنج صرف خطرات کی نشاندہی نہیں، بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ترجیحات اور قابلِ عمل حکمت عملی وضع کرنا ہے۔
تہران اجلاس؛ مشترکہ سلامتی کی جانب پیش رفت
تہران میں چار ملکی اجلاس کے انعقاد کا پس منظر بھی علاقائی تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ باقری کنی کے مطابق، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اس سے قبل پاکستان میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا اور ایران کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دینا چاہتے تھے، لیکن اس وقت حالات ایرانی فریق کی شرکت کے لیے سازگار نہیں تھے۔
بعد ازاں، ان تینوں ممالک نے ترکیہ میں ایک اور اجلاس منعقد کیا اور اس موقع پر بھی ایران کو شرکت کی دعوت دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔ تاہم، اس مرتبہ انہوں نے خود ایران آنے اور تہران میں چار ملکی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
باقری کنی نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے آرمی چیف کے دورۂ تہران کے دوران میجر جنرل محسن رضایی کے ساتھ ملاقات میں پاکستانی آرمی چیف نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تہران آکر مشترکہ اجلاس منعقد کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق، اس دورے کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا مقصد نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد پیش کرنا تھا، جبکہ دوسرا مقصد علاقائی سلامتی کے معاملات پر مشاورت، ایک دوسرے کے نقطۂ نظر سے آگاہی اور مشترکہ گفتگو کے ذریعے تعاون کی بنیاد مضبوط کرنا تھا۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ چار ملکی اجلاس کسی ایک ملاقات تک محدود نہیں، بلکہ اس سے پہلے ہونے والے علاقائی رابطوں اور مشاورت کا تسلسل ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے تہران میں اجلاس منعقد کرنے کی تجویز کو ایران کے ساتھ علاقائی معاملات پر براہِ راست رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کے امکانات بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
اجلاس میں چاروں ممالک نے ایسے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل پر توجہ دی جس کے ذریعے باہمی تعاون کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ چاروں ممالک مستقبل میں دوسرے علاقائی ممالک کو بھی سلامتی کے قیام کی کوششوں میں شامل کرنے کے لیے ایک محور کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اجلاس میں شریک ممالک کے نمائندوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ چاروں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے عالم اسلام اور پورے خطے میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
مجموعی طور پر تہران اجلاس کو علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل کی جانب ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت اس امکان میں ہے کہ علاقائی ممالک بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کے بجائے اپنے مشترکہ مفادات اور باہمی تعاون کی بنیاد پر سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کریں۔
تاہم، اس اجلاس کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ مستقبل کے عملی اقدامات سے ہوگا۔ اگر چاروں ممالک مشترکہ فریم ورک کو مستقل مشاورت، باہمی اعتماد اور سلامتی کے شعبے میں ٹھوس تعاون میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ خطے میں مسائل کے حل اور استحکام کے قیام کے لیے ایک مؤثر پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ کوشش سفارتی رابطوں اور مشترکہ مؤقف کے اظہار تک محدود رہے گی۔
آپ کا تبصرہ